مہنگائی کیا ہے؟ یہ کیسے ناپی جاتی ہے اور آپ کے پیسوں پر کیا اثر ڈالتی ہے
مہنگائی وہ رفتار ہے جس سے پوری معیشت میں قیمتیں بڑھتی ہیں۔ 3 فیصد سالانہ مہنگائی میں جو چیز آج 100 کی ہے، وہ اگلے سال لگ بھگ 103 کی ہوگی۔ یہ معمولی لگتا ہے، مگر جمع ہوتا رہتا ہے: 3 فیصد پر 25 سال بعد اتنی ہی نقد رقم سے پہلے کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم سامان آتا ہے۔
مہنگائی کیا ہے
مہنگائی کا مطلب ہے کہ وقت کے ساتھ اتنے ہی پیسوں میں کم چیزیں آتی ہیں۔ چائے کی پیالی، بس کا ٹکٹ یا ایک مہینے کا کرایہ آہستہ آہستہ مہنگا ہوتا جاتا ہے، اس لیے بٹوے میں رکھے ہر نوٹ کی قدر ہر سال تھوڑی سی کم ہو جاتی ہے۔ مرکزی بینک چاہتے ہیں کہ قیمتیں تھوڑا تھوڑا اور ایک رفتار سے بڑھیں۔ اس سے لوگ خرچ اور سرمایہ کاری کرتے رہتے ہیں اور بچت بھی بہت تیزی سے نہیں گھلتی۔
اس کا الٹ، یعنی پوری معیشت میں قیمتوں کا گرنا، ڈیفلیشن کہلاتا ہے۔ یہ سننے میں اچھا لگتا ہے، مگر اس کے ساتھ عام طور پر طلب کمزور ہوتی ہے اور نوکریاں جاتی ہیں۔ جاپان 1990 کی دہائی کے بعد برسوں اس سے نمٹتا رہا۔ دوسری انتہا پر بے لگام مہنگائی (ہائپر انفلیشن) چند مہینوں میں کرنسی کو تباہ کر دیتی ہے، جیسا 2008 میں زمبابوے اور 2018 میں وینزویلا میں ہوا۔
مہنگائی کیسے ناپی جاتی ہے
ہر مہینے شماریات کے ماہرین ایک عام گھرانے کی خریداری کی ٹوکری کی قیمتیں درج کرتے ہیں: کھانا پینا، مکان کا کرایہ، ٹرانسپورٹ، توانائی، صحت، تعلیم، فون کے بل اور بہت کچھ۔ ہر چیز کو ایک وزن دیا جاتا ہے، جو بتاتا ہے کہ گھرانے اس پر اصل میں کتنا خرچ کرتے ہیں۔ امریکہ کی ٹوکری میں رہائش کا حصہ کل کا لگ بھگ ایک تہائی ہے۔ بھارت اور انڈونیشیا میں کھانے پینے کا حصہ امریکہ یا برطانیہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
وزن کیسے کام کرتا ہے، یہ دیکھیں۔ ایک سادہ ٹوکری لیں جس میں کھانے پر 40 فیصد خرچ ہوتا ہے، مکان کے کرائے پر 40 فیصد اور ٹرانسپورٹ پر 20 فیصد۔ کھانے کی قیمتیں 10 فیصد بڑھتی ہیں، مکان کا کرایہ 5 فیصد بڑھتا ہے اور بس کا کرایہ 5 فیصد کم ہوتا ہے۔ کھانا 4 پوائنٹس کا اضافہ کرتا ہے (10 فیصد کا 40 فیصد)، مکان کا کرایہ 2 پوائنٹس کا (5 فیصد کا 40 فیصد) اور ٹرانسپورٹ 1 پوائنٹ کم کرتا ہے (5 فیصد کا 20 فیصد)۔ مہنگائی 5 فیصد ہے۔
پوری ٹوکری کی قیمت کو کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کہتے ہیں۔ 12 مہینوں میں اس میں آنے والی تبدیلی ہی وہ مہنگائی کی شرح ہے جو خبروں میں آتی ہے۔ زیادہ تر ممالک اسے مہینے میں ایک بار جاری کرتے ہیں، اور ٹریڈرز ہر بار جاری ہونے والے اعداد و شمار کا موازنہ ماہرین معیشت کے اندازوں سے کرتے ہیں۔
ہیڈ لائن یا کور؟ ہیڈ لائن مہنگائی میں سب کچھ شامل ہوتا ہے۔ بنیادی مہنگائی (کور انفلیشن) میں کھانا اور توانائی شامل نہیں ہوتے، کیونکہ ان کی قیمتیں موسم اور جنگوں کے ساتھ اچھلتی ہیں۔ مرکزی بینک اصل رجحان دیکھنے کے لیے بنیادی مہنگائی پر نظر رکھتے ہیں۔
مہنگائی کی کتنی شرح نارمل ہے؟
زیادہ تر مرکزی بینک مہنگائی کا ایک ہدف اعلان کرتے ہیں۔ امیر معیشتوں میں یہ عام طور پر سالانہ 2 فیصد ہوتا ہے۔ بہت سی ابھرتی معیشتیں اس سے تھوڑا اونچا ہدف رکھتی ہیں، اکثر ہدف کے اوپر نیچے ایک گنجائش کے ساتھ، کیونکہ وہاں قیمتیں زیادہ اوپر نیچے ہوتی ہیں۔
| مرکزی بینک | مہنگائی کا ہدف | تفصیل |
|---|---|---|
| امریکی فیڈرل ریزرو | 2% | PCE پرائس انڈیکس سے ناپا جاتا ہے |
| یورپی مرکزی بینک | 2% | یوروزون، درمیانی مدت میں |
| بینک آف انگلینڈ | 2% | برطانیہ کا کنزیومر پرائس انڈیکس |
| بینک آف جاپان | 2% | جاپان کا کنزیومر پرائس انڈیکس |
| بینک انڈونیشیا | 2.5% | 1 فیصد پوائنٹ اوپر یا نیچے |
| بینکسیکو (میکسیکو) | 3% | 1 فیصد پوائنٹ اوپر یا نیچے |
| بھارت کا ریزرو بینک | 4% | 2 فیصد پوائنٹس اوپر یا نیچے |
مہنگائی کیوں ہوتی ہے
- توانائی کے جھٹکے۔ تیل اور گیس ٹرانسپورٹ، کارخانوں اور کھانے پینے کی چیزوں تک ہر جگہ استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ان کی قیمت اچانک بڑھے تو اثر ہر طرف پھیل جاتا ہے۔ 1973 میں تیل کی پابندی سے تیل کی قیمتیں لگ بھگ چار گنا ہو گئیں۔
- سپلائی کے مسائل۔ جب کارخانے بند ہوں یا جہاز پھنس جائیں تو اتنی ہی طلب کے سامنے کم سامان ہوتا ہے، اور قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
- زیادہ طلب۔ جب لوگ اور حکومتیں اس سے زیادہ تیزی سے خرچ کریں جتنا معیشت پیدا کر سکتی ہے، تو دکاندار گاہک کھوئے بغیر قیمتیں بڑھا لیتے ہیں۔
- بہت زیادہ پیسہ۔ جب پیسہ ان چیزوں سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھے جو اس سے خریدی جا سکتی ہیں، تو قیمتیں چڑھتی ہیں۔ بل ادا کرنے کے لیے نوٹ چھاپنے سے ہی بے لگام مہنگائی شروع ہوتی ہے۔
- کمزور کرنسی۔ جب کرنسی گرتی ہے تو درآمدی چیزیں مقامی کرنسی میں مہنگی ہو جاتی ہیں، اور دکاندار یہ خرچ آگے گاہکوں پر ڈال دیتے ہیں۔
- توقعات۔ اگر سب کو لگے کہ قیمتیں بڑھتی رہیں گی تو ملازمین زیادہ تنخواہ مانگتے ہیں اور دکاندار پہلے ہی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ مہنگائی خود اپنے آپ کو ہوا دے سکتی ہے۔
2022 کی مہنگائی کی لہر
کورونا وبا کے بعد طلب، سپلائی سے زیادہ تیزی سے واپس آئی۔ پھر یوکرین پر روس کے حملے نے توانائی اور کھانے پینے کی قیمتیں تیزی سے بڑھا دیں۔ ایک کے بعد ایک ملک میں، لگ بھگ ایک ہی وقت پر، مہنگائی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ انڈونیشیا میں یہ ستمبر 2022 میں سب سے اونچی سطح پر پہنچی، اسی مہینے جب حکومت نے سبسڈی والے ایندھن کی قیمتیں بڑھائیں۔
| معیشت | بلند ترین شرح کا مہینہ | بلند ترین مہنگائی |
|---|---|---|
| ترکیہ | اکتوبر 2022 | 85.5% |
| برازیل | اپریل 2022 | 12.1% |
| برطانیہ | اکتوبر 2022 | 11.1% |
| اسپین | جولائی 2022 | 10.8% |
| یوروزون | اکتوبر 2022 | 10.6% |
| امریکہ | جون 2022 | 9.1% |
| میکسیکو | ستمبر 2022 | 8.7% |
| کینیڈا | جون 2022 | 8.1% |
| بھارت | اپریل 2022 | 7.8% |
| جنوبی افریقہ | جولائی 2022 | 7.8% |
| آسٹریلیا | 2022 کی چوتھی سہ ماہی | 7.8% |
| انڈونیشیا | ستمبر 2022 | 6.0% |
| جاپان | جنوری 2023 | 4.3% |
کچھ ملکوں میں حالات اس سے کہیں آگے گئے۔ ارجنٹائن میں مہنگائی 2023 کے آخر میں 200 فیصد سے اوپر گئی اور اپریل 2024 میں 290 فیصد کے قریب اپنی انتہا پر پہنچی، پھر 2025 میں تیزی سے کم ہوئی۔ مرکزی بینکوں نے جواب میں کئی دہائیوں میں سب سے تیز رفتار سے شرح سود بڑھائی، اور 2024 تک زیادہ تر بڑی معیشتوں میں مہنگائی واپس ہدف کی طرف آ گئی۔ 2025 میں یوروزون میں مہنگائی 2 فیصد کے قریب تھی، جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں ہدف سے اوپر رہی۔
مہنگائی آپ کے پیسوں کے ساتھ کیا کرتی ہے
یہ دیکھیں کہ مہنگائی کی مختلف شرحوں پر 10، 20 اور 30 سال بعد 100 کی نقد رقم سے کتنا کچھ خریدا جا سکتا ہے۔ کرنسی سے فرق نہیں پڑتا: حساب ہر جگہ ایک ہی ہے۔
| مہنگائی | 10 سال بعد | 20 سال بعد | 30 سال بعد |
|---|---|---|---|
| سالانہ 2% | 82 | 67 | 55 |
| سالانہ 3% | 74 | 55 | 41 |
| سالانہ 5% | 61 | 38 | 23 |
| سالانہ 10% | 39 | 15 | 6 |
اسی لیے بچت کرنے والے مہنگائی سے زیادہ ریٹرن ڈھونڈتے ہیں۔ ریٹرن میں سے مہنگائی نکال دیں تو جو بچتا ہے، وہی موٹے طور پر آپ کا حقیقی ریٹرن ہے۔ اگر کسی ڈپازٹ پر 4 فیصد مل رہا ہو اور مہنگائی 3 فیصد ہو تو قوت خرید سالانہ صرف لگ بھگ 1 فیصد بڑھتی ہے۔ 2022 میں جس بچت کرنے والے کو 1 فیصد مل رہا تھا جبکہ قیمتیں لگ بھگ 9 فیصد بڑھیں، اس کی قوت خرید ایک ہی سال میں لگ بھگ 7 فیصد کم ہو گئی۔
لمبی مدت میں شیئرز جیسے بڑھنے والے ایسٹس عام طور پر مہنگائی سے آگے رہے ہیں، اگرچہ راستے میں بڑے اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ کچھ حکومتیں مہنگائی سے جڑے بانڈ بھی جاری کرتی ہیں، جیسے امریکہ کے TIPS اور برطانیہ کے انڈیکس لنکڈ گلٹس، جن کی ادائیگیاں قیمتوں کے ساتھ بڑھتی ہیں۔ نقد رقم کا بھی اپنا کام ہے: ایمرجنسی فنڈ محفوظ ہونا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر فوراً ہاتھ آ جانا چاہیے۔
مرکزی بینک مہنگائی سے کیسے لڑتے ہیں
جب مہنگائی تیز ہو تو مرکزی بینک شرح سود بڑھاتے ہیں۔ قرض اور ہوم لون مہنگے ہو جاتے ہیں، خرچ ٹھنڈا پڑتا ہے اور قیمتیں آہستہ بڑھتی ہیں۔ جب معیشت کمزور ہو اور مہنگائی کم ہو تو وہ سہارا دینے کے لیے شرح سود کم کرتے ہیں۔
2022 کی لہر نے دکھایا کہ وہ کس حد تک جا سکتے ہیں۔ مارچ 2022 سے جولائی 2023 کے درمیان امریکی فیڈرل ریزرو نے اپنی بنیادی شرح سود صفر کے قریب سے بڑھا کر 5.25 سے 5.5 فیصد کے درمیان کر دی۔ دسمبر 2021 سے اگست 2023 کے درمیان بینک آف انگلینڈ نے شرح سود 0.1 فیصد سے 5.25 فیصد کر دی۔ جولائی 2022 سے ستمبر 2023 تک ECB نے اپنا ڈپازٹ ریٹ منفی 0.5 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کر دیا۔ مہنگائی کم ہوئی تو ان میں سے زیادہ تر نے 2024 میں شرح سود میں کمی شروع کر دی۔
مارکیٹ خود اعداد و شمار پر نہیں بلکہ اندازے سے فرق پر ردعمل دیتی ہے۔ اگر مہنگائی اندازے سے زیادہ آئے تو ٹریڈرز توقع کرتے ہیں کہ شرح سود زیادہ دیر تک اونچی رہے گی، اس لیے اس ملک کی کرنسی اکثر اچھل جاتی ہے اور اس کے شیئرز کی قیمتیں اکثر گر جاتی ہیں۔ اندازے سے صرف 0.1 فیصد پوائنٹ کا فرق بھی چند سیکنڈ میں کرنسیوں اور شیئرز کو ہلا سکتا ہے۔
عام سوالات
آسان الفاظ میں مہنگائی کیا ہے؟
مہنگائی وہ شرح ہے جس سے پوری معیشت میں قیمتیں بڑھتی ہیں۔ 3 فیصد مہنگائی میں خریداری کی جو ٹوکری ایک سال پہلے 100 کی تھی، وہ آج 103 کی ہے، اس لیے اتنے ہی پیسوں سے تھوڑا کم سامان آتا ہے۔
مہنگائی کیسے ناپی جاتی ہے؟
شماریات کے ماہرین ہر مہینے ایک عام گھرانے کی خریداری کی ٹوکری کی قیمتوں پر نظر رکھتے ہیں۔ ٹوکری کی قیمت کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) ہے، اور 12 مہینوں میں اس کی تبدیلی وہ مہنگائی کی شرح ہے جو خبروں میں آتی ہے۔
مہنگائی کی صحت مند شرح کتنی ہے؟
فیڈ، ECB اور بینک آف انگلینڈ، تینوں کا ہدف سالانہ 2 فیصد ہے۔ بہت سی ابھرتی معیشتیں تھوڑا اونچا ہدف رکھتی ہیں: بینک انڈونیشیا کا ہدف 2.5 فیصد، بینکسیکو کا 3 فیصد اور بھارت کے ریزرو بینک کا 4 فیصد ہے، اور ہر ایک کے ساتھ کمی بیشی کی ایک گنجائش رکھی گئی ہے۔
مہنگائی کی وجہ کیا ہوتی ہے؟
عام طور پر کئی چیزیں مل کر: توانائی اور کھانے کی قیمتوں کے جھٹکے، سپلائی کے مسائل، زیادہ طلب، کمزور کرنسی اور انتہائی صورتوں میں ضرورت سے زیادہ نوٹ چھاپنا۔ توقعات بھی اہم ہیں۔ اگر سب کو قیمتیں بڑھنے کی توقع ہو تو مہنگائی خود اپنے آپ کو ہوا دے سکتی ہے۔
کیا ڈیفلیشن صارفین کے لیے اچھی ہے؟
بہت کم۔ پوری معیشت میں قیمتوں کا گرنا عام طور پر کمزور طلب کی نشانی ہوتا ہے، اس لیے کمپنیاں نوکریاں کم کرتی ہیں اور لوگ خرچ ٹال دیتے ہیں، جس سے معاشی سست روی اور گہری ہو سکتی ہے۔
اپنی بچت کو مہنگائی سے کیسے محفوظ رکھوں؟
ایمرجنسی فنڈ نقد رقم میں رکھیں، پھر لمبی مدت میں مہنگائی سے زیادہ ریٹرن تلاش کریں، مثال کے طور پر پیسہ ڈپازٹس، بانڈز اور بڑھنے والے ایسٹس میں بانٹ کر۔ یہ مواد صرف سیکھنے کے لیے ہے، ذاتی مشورہ نہیں۔
ذرائع: قومی شماریات کے ادارے (امریکہ کا بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس، برطانیہ کا آفس فار نیشنل اسٹیٹسٹکس، یورو اسٹیٹ، اسپین کا INE، انڈونیشیا کا BPS، میکسیکو کا INEGI، بھارت کی وزارت شماریات، اسٹیٹسٹکس کینیڈا، جاپان کا شماریات بیورو اور دوسرے ادارے)؛ مرکزی بینکوں کی رپورٹیں (فیڈرل ریزرو، ECB، بینک آف انگلینڈ، بینک انڈونیشیا، بینکسیکو، بھارت کا ریزرو بینک)۔ یہ مواد صرف سیکھنے کے لیے ہے، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔
مہنگائی کو خود محسوس کریں
مہنگائی کی ٹوکری بھریں، پھر دیکھیں کہ پیٹرول، کرایہ اور کھانا اس نمبر کو کیسے بدلتے ہیں۔
مہنگائی کی ٹوکری کھیلیں